اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حملے میں حزب اللہ کے مجاہدین کی شہادت کے بعد کہ جن میں حزب اللہ کے شہید کمانڈر عماد مغنیہ کے بیٹے جہاد مغنیہ بھی شامل تھے، غاصب صہیونی سرزمین پر ہر طرف خوف و دہشت کا سماں ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کی تمام سیکیورٹی ادارے ہائی الرٹ ہیں اور حزب اللہ کی جانب سے جوابی کارروائی کے منتظر ہیں۔ غاصب صہیونی حکومت کے سرغنہ بنیامین نتن یاہو نے حزب اللہ کے مجاہدین کی شہادت کے بعد امن و امان سے متعلق اجلاس طلب کر کے اسرائیلی فوج کو ہائی لارٹ کر دیا ہے۔ فوج نے اس سلسلے میں اقدامات کرتے ہوئے تمام تر چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔ حزب اللہ کے حملے کے خوف سے ڈیفنس شیلڈ کو فعال کر دیا گیا ہے اور ارون ادیر نامی اینٹی میزائیل سسٹم کو بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ ادھر حزب اللہ کے حملے کے خوف سے صہیونی شہری بھی پناہ گاہوں میں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں اور اپنی راتیں پناہ گاہوں میں جاگ کر گذار رہے ہیں۔
دبکا فائل نامی ویب سائیٹ کے مطابق اسرائیل حزب اللی کی جانب سے کسی منفرد آپریشن کا منتظر ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس بار حزب اللہ اسرائیل کے اندر میزائیلوں سے نہیں بلکہ ان سرنگوں کے زریعے حملہ کرے گی جو الجلیل میں کھودی گئی ہیں۔ دبکا نیوز کے مطابق حزب اللہ کے حملے سے 2500 سے زیادہ صہیونی شہری متاثر ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سرنگیں اس قدر خفیہ ہیں کہ ان کے بارے میں اسرائیلی فوج کے اعلی افسران بھی ان کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ اور صہیونی شہری بھی اس بارے میں کافی خوفزدہ ہیں۔ اس رپورٹ نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دو باتوں کا قوی امکان ہے ، یا حزب اللہ کسی بھی ایک سرحدی علاقے پر قبضہ کر سکتی ہے یا سرنگوں کے زریعے الجلیل میں داخل ہو کر آپریشن انجام دے سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔
/169